حدیث نمبر: 931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً أَعْتِقُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَعْتِقْهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ ایک انصاری شخص سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک کالے رنگ کی لونڈی لے کر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! ایک مؤمن گردن آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے، اگر آپ اسے مؤمنہ سمجھتے ہیں، تو میں اسے آزاد کر دیتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) پوچھا: کیا آپ گواہی دیتی ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: کیا آپ گواہی دیتی ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھتی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 931
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مصنف عبدالرزاق : 16814، مسند الإمام أحمد : 3/451-452، امام زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»