المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصيد باب: شکار کے متعلق جو مروی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : ثني عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ فَأَجِدُ فِيهِ سَهْمِي ؟ قَالَ : " إِنْ وَجَدْتَهُ وَفِيهِ سَهْمُكَ ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبْعٌ فَكُلْ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُهُ لأَبِي بِشْرٍ ، فَقَالَ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَدِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ أَمْرٍ غَيْرِهِ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ .سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں شکار پر تیر چلاتا ہوں، پھر ایک رات کے بعد اسے پاتا ہوں، اس میں میرا تیر موجود ہوتا ہے (تو کیا کروں) فرمایا: اگر آپ کو شکار مل جائے اور اس میں آپ کا تیر بھی موجود ہو اور کسی درندے نے بھی اس سے نہ کھایا ہو، تو آپ کھا سکتے ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو بشر کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے مجھے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ اس میں اپنا تیر پائیں اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ پائیں، نیز آپ کو یقین ہو کہ یہ اسی تیر سے ہی مرا ہے، تو کھا سکتے ہیں۔