المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الصيد باب: شکار کے متعلق جو مروی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا : ثنا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : ابْنُ يَحْيَى وَهَذَا حَدِيثُ أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ ؟ فَقَالَ : " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ " قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ ؟ فَقَالَ : " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ ، فَإِنْ أَخَذَ الْكَلْبُ ذَكَاتَهُ ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا أَوْ كِلابًا غَيْرَهُ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ " .سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض سے شکار کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ تیز دھار کی طرف سے لگے، تو کھا لیں اور اگر عرض (چوڑائی) کی طرف سے لگے، تو وہ وقيذ (چوٹ سے مری ہوئی) ہے۔ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ساتھ شکار کرنے کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شکار وہ آپ کے لیے روک لے اسے کھا لیں، کیوں کہ کتے کے پکڑنے سے وہ ذبح ہو جاتا ہے، اگر آپ کے کتے کے ساتھ اور کتے بھی موجود ہوں اور یہ اندیشہ ہو کہ اس کے ساتھ ان کتوں نے بھی شکار کو پکڑا ہے اور قتل کیا ہے، تو پھر اسے نہ کھائیں، کیوں کہ آپ نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا ہے، باقیوں پر تو نہیں لیا۔