حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ رَجُلا مِنْ بَنِي شَيْبَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا ذَكَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَضَاحِي ، أَوْ مَاذَا نَهَى عَنْهُ ؟ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ لا تُجْزِئُ ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ضَلَعُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا ، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لا تُنْقِي ، قُلْتُ : فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ أَوْ فِي الْقَرْنِ أَوْ فِي الأُذُنِ نَقْصٌ ، قَالَ : فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلا تُحَرِّمْهُ عَلَى أحَدٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

عبید بن فیروز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سی قربانی نا پسند کیا کرتے تھے؟ یا کیسی قربانی سے منع کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار طرح کے جانور کفایت نہیں کرتے: وہ کانا جانور، جس کا کانا پن واضح ہو وہ لنگڑا، جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو وہ بیمار جس کا بیمار ہونا واضح ہو وہ لاغر جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔ میں نے کہا: میں تو دانت، سینگ اور کان میں نقص کو بھی نا پسند کرتا ہوں، تو انہوں (سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: جو آپ کو نا پسند ہے، اسے چھوڑ دیں لیکن کسی پر حرام قرار نہ دیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 907
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح : مسند الإمام أحمد : 4/284، سنن أبي داود : 2802، سنن النسائي : 4374، سنن الترمذي : 1497، سنن ابن ماجه : 3144، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2912) امام ابن حبان رحمہ اللہ (5919، 5922) اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/467، 468) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»