المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الذبائح باب: ذبیحوں (ذبح کیے گئے جانوروں) کا بیان
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا يَكُونُ الذَّكَاةُ إِلا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ ؟ فَقَالَ : " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لأَجْزَأَ عَنْكَ " ، قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : هَذَا فِي مَا لا يُقْدَرُ عَلَيْهِ ، يشبه التَّرَدِّيَ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو عشراء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ (گردن کے گڑھے) یا حلق سے ہی ذبح کرنا درست ہے؟ فرمایا: اگر اس کی ران میں نیزہ (وغیرہ) مار دیں، تو بھی کافی ہے۔ ابن مہدی کہتے ہیں: یہ حکم اس جانور کے لیے ہے، جو بے قابو ہو، جیسے بلندی سے گرنے والا جانور وغیرہ۔