المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الذبائح باب: ذبیحوں (ذبح کیے گئے جانوروں) کا بیان
حدیث نمبر: 896
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثنا حَبَّانُ يَعْنِي ابْنَ هِلالٍ ، قَالَ : ثنا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، قَالَ : كَانَ أَيُّوبُ يُحَدِّثُنِي ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، فَلَقِيتُ زَيْدًا فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ ثني عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " كَانَ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ ، فَعَرَضَ لَهَا فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ ، فَقُلْتُ لِزَيْدٍ : مِنْ حَدِيدٍ أَوْ مِنْ خَشَبٍ ؟ قَالَ : لا ، بَلْ مِنْ خَشَبٍ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْهَا ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کی اونٹنی تھی، جو احد (پہاڑ) کی جانب چرا کرتی تھی، وہ اس کے سامنے آیا، تو اسے میخ سے ذبح کر دیا (یعنی میخ اس کے گلے میں گھونپ دی) میں نے زید سے پوچھا: میخ لوہے کی تھی یا لکڑی کی؟ انہوں نے کہا: لکڑی کی تھی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔