حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثنا هِشَام ، قَالَ : أنا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضِّباب ، فَقَالَ : " أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالأَقِطِ ، وَتَرَكَ الضِّباب تَقَذُّرًا لَهُمْ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سانڈے کھانے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میری خالہ ام حفيد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی، پنیر اور سانڈوں کا تحفہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے کچھ کھا لیا اور ان کی وجہ سے سانڈے چھوڑ دیے، اگر وہ حرام ہوتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائے جاتے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کھانے کا حکم دیتے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 894
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 5402، صحيح مسلم : 1947۔»