حدیث نمبر: 878
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَنَفِدَ أَزْوَادُنَا ، فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ فَنَهَانَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، ثُمَّ قَالَ : نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَكُلُوا ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا ابو عبیدہ کے ساتھ ایک سریہ (چھوٹے لشکر) میں بھیجا، ہمارا کھانا ختم ہو گیا، ہم ایک مچھلی کے پاس سے گزرے، جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، ہم نے اس میں سے کھانا چاہا، تو سیدنا ابوعبیدہ نے ہمیں منع کر دیا، پھر کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلے ہیں، لہذا اسے کھالیں، چنانچہ ہم کئی دنوں تک اسے کھاتے رہے، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ کو اس کی اطلاع دی، آپ نے فرمایا: اگر آپ کے پاس اس کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے، تو ہمارے ہاں بھیجیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 878
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2483، صحیح مسلم: 1935»