المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الأشربة باب: مشروبات (پینے کی چیزوں) کے متعلق جو مروی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا أُذِنَ لَهُ فِي زِيَارَةِ أُمِّهِ ، وَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الآخِرَةَ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَنْ تُمْسِكُوا عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي فَوْقَ ثَلاثٍ ، أَرَدْتُ بِذَلِكَ أَنْ يَتَّسِعَ أَهْلُ السَّعَةِ عَلَى مَنْ لا سَعَةَ لَهُ ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ وَإِنَّ ظَرْفًا لا يَحِلُّ شَيْئًا وَلا يُحَرِّمُهُ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آپ کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، سواب ان کی زیارت کیا کریں، کیونکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی ماں کی (قبر کی) زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے، یہ آخرت یاد دلاتی ہے، میں نے آپ کو تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا، میرا مقصد یہ تھا کہ مالدار لوگ ان لوگوں کے لیے فراخی پیدا کریں، جن کے پاس (قربانی کی) گنجائش نہیں ہے، اب آپ کھائیں بھی اور جمع بھی کر سکتے ہیں اور میں نے آپ کو کچھ برتنوں (کے استعمال) سے روکا تھا، برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا، ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔