حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالإِسْلامِ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ ، وَشَكُوا حُمَّى الْمَدِينَةِ ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ ، وَأَمَرَ لَهُمْ بِرَاعٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَانْطَلَقُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ ، فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الذَّوْدَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأَتَى بِهِمْ فَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضِمُونَ حِجَارَتَهَا حَتَّى مَاتُوا " قَالَ قَتَادَةُ : فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ أنزلت فِيهِمْ : إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا کہ وہ زمیندار نہیں، بلکہ چرواہے ہیں، نیز انہوں نے مدینہ کے بخار کی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اونٹوں اور چرواہوں کا (بندوبست کرنے کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ (مدینہ سے) باہر چلے جائیں، ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں، وہ حرہ (پتھریلا میدان) کے ایک کونے میں چلے گئے اور اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہو گئے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، انہیں لایا گیا، تو آپ نے ان کی آنکھوں میں سلائی گرم کر کے ڈالی اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، پھر انہیں حرہ کے کنارے میں پھینک دیا گیا وہ پتھر چباتے چباتے مر گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہمیں خبر ملی ہے کہ آیت ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ﴾ (المائدة: 33) انہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 846
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 4192، صحیح مسلم: 1671»