المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب جراح العمد باب: جان بوجھ کر زخمی کرنے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا سُفْيَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَدَعَا بِغُلامٍ لَهُ فَأَعْتَقَهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَالِي مِنْ أَجْرِهِ مَا يَزِنُ هَذَا أَوْ مَا سَاوَى هَذَا ، وَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الأَرْضِ بِيَدِهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ ضَرَبَ عَبْدًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ ، أَوْ لَطَمَهُ ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
زاذان کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو بلا کر آزاد کر دیا، پھر فرمانے لگے: مجھے اس کو آزاد کرنے کا اتنا بھی ثواب نہیں ملا اور آپ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین سے کوئی چیز اٹھائی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام پر حد لگائی، جس کا اس نے ارتکاب نہیں کیا تھا یا اسے تھپڑ مارا، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔