المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب جراح العمد باب: جان بوجھ کر زخمی کرنے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : ثنا أَبَانُ ، قَالَ : ثنا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ جَارِيَةٍ بِحَجَرٍ ، ثُمَّ أَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَ عَلَيْهَا ، فَوَجَدُوهَا وَبِهَا رَمَقٌ فَطَافُوا بِهَا ، أَهَذَا هُوَ ، أَهَذَا هُوَ ؟ حَتَّى دَلَّتْ عَلَى الْيَهُودِيِّ ، فَأَخَذُوهُ فَاعْتَرَفَ ، " فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِحَ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے پتھر کے ساتھ ایک بچی کا سر کچل دیا اور اس کے زیورات اتار لیے، لوگوں نے اسے پکڑا، تو اس میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی، وہ اسے لے کر گھومنے لگے (اور پوچھنے لگے) کیا یہ وہی شخص ہے، کیا یہ وہی شخص ہے (جس نے آپ کو مارا ہے) حتی کہ اس نے یہودی کے متعلق بتایا، تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، یہودی نے اعتراف جرم کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا گیا۔