حدیث نمبر: 836
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ ، وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ ، كَانَ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلامَ مَنْ عَلَى الْبَلاطِ ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ ، فَخَرَجَ وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا ، قُلْنَا : يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : وَلِمَ يَقْتُلُونَنِي ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إلا بِإِحْدَى ثَلاثٍ : رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلامِهِ ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا " ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلا إِسْلامٍ قَطُّ ، وَلا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِيَ بِدِينِي بَدَلا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ لَهُ ، وَلا قَتَلْتُ نَفْسًا ، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي ؟ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابو امامہ بن سہل کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور (قید) تھے، تو میں ان کے پاس تھا، گھر میں داخل ہونے کا ایک ایسا راستہ تھا، جو شخص اس میں سے داخل ہوتا تو وہ بلاط (مدینہ میں ایک جگہ ہے) پر ہونے والی باتیں سن سکتا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس میں سے داخل ہوئے، جب باہر آئے، تو ان کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا، انہوں نے فرمایا: وہ تو مجھے ابھی ابھی قتل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اللہ تعالیٰ ان سے کافی ہو جائے گا، آپ نے فرمایا: وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: صرف تین وجوہات کی بنا پر کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز ہے۔ جو اسلام لانے کے بعد کفر کرے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے جو کسی کو ناحق قتل کر دے۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا تھا اور نہ ہی اسلام میں اور جب سے مجھے اللہ تعالیٰ نے ہدایت (اسلام) سے نوازا ہے، میں نے کبھی دین بدلنے کے متعلق سوچا بھی نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 836
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 61/1، 62، سنن أبي داود: 4502، سنن النسائي: 4024، سنن الترمذي: 2158، سنن ابن ماجه: 2533، معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني: 287، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (350/4) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»