المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب حد الزاني البكر والثيب باب: کنوارے اور شادی شدہ زانی کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 821
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثنا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ ، فَقَالَ : " إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : لا أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ وَالضَّفِيرُ : الْحَبْلُ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے متعلق پوچھا گیا، جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کر بیٹھے (تو اسے کیا سزا دی جائے)۔ فرمایا: اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر زنا کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر زنا کرے، تو کوڑے مارو، پھر زنا کرے، تو بیچ دو، خواہ رسی کے عوض ہی ہو۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: یاد نہیں کہ آپ نے یہ الفاظ تیسری مرتبہ کہے تھے یا چوتھی۔ ضفیر رسی کو کہتے ہیں۔