المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب حد الزاني البكر والثيب باب: کنوارے اور شادی شدہ زانی کی حد کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ، فَذَهَبَ ، فَلَمَّا رُجِمَ وَجَدَ مِنَ الْحِجَارَةَ فَرَّ يَشْتَدُّ ، فَمَرَّ بِرَجُلٌ مَعَهُ لِحْي بَعِيرٍ فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ ، فَذَكَرُوا فِرَارَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَهَلا تَرَكْتُمُوهُ ؟ " .سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: میں نے زنا کیا ہے، آپ نے اس سے منہ موڑ لیا حتیٰ کہ انہوں نے چار مرتبہ اس بات کا اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے جائیں اور رجم کر دیں۔ چنانچہ وہ گئے، جب رجم کیا جانے لگا، تو پتھروں کی تکلیف کی وجہ سے بھاگ گئے، ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جس کے پاس اونٹ کا جبڑا تھا تو اس نے وہ جبڑا مار کر انہیں قتل کر دیا۔ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ وہ پتھروں کے لگنے کی تکلیف پا کر بھاگ گیا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟