حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ : ثني اللَّيْثُ ، قَالَ : ثني يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ ، أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أَضْوَى فَعَادَ جِلْدُهُ عَلَى عَظْمٍ ، فَدَخَلَتْ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ إِلَيْهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ ، وَقَالَ : اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَيَّ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مثل الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ ، مَا هُوَ إِلا جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِائَةِ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُونَهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابو أمامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ انہیں کسی انصاری صحابی نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی بیمار ہو گیا حتیٰ کہ وہ اس قدر کمزور ہو گیا کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا، کسی کی لونڈی اس کے پاس گئی تو وہ اس سے ہشاش بشاش اور خوش ہو گیا، اس نے اس سے جماع کر لیا، جب اس کی قوم کے لوگ اس کی تیمارداری کے لیے گئے تو اس نے انہیں اس (جماع) کے متعلق بتایا اور انہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے متعلق دریافت کرنا کہ میرے پاس ایک لونڈی آئی، تو میں اس سے جماع کر بیٹھا ہوں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ ہم نے کسی کو ایسے مرض میں نہیں دیکھا، جو مرض اسے لاحق ہے۔ اگر ہم اسے آپ کے پاس اٹھا کر لائیں، تو اس کی ہڈیاں ٹوٹ کر بکھر جائیں گی، وہ تو صرف ہڈی اور چمڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ سو باریک ٹہنیاں لیں اور ان کے ساتھ اسے ایک بار ماریں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 817
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن: سنن أبي داود: 4472»