المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب حد الزاني البكر والثيب باب: کنوارے اور شادی شدہ زانی کی حد کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا ، فَقَالَتْ : أَنَا حُبْلَى ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِلَيْهَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي ، فَفَعَلَ ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا ، فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا ؟ فَقَالَ : " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدَتْ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ لِلَّهِ تَعَالَى بِنَفْسِهَا ؟ " .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر زنا کا اقرار کیا اور کہنے لگی: میں حاملہ ہو چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا کر فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا، جب بچہ پیدا ہو جائے، تو مجھے بتانا۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس (عورت) کے کپڑے اس پر مضبوطی سے باندھ دیے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کا جنازہ بھی پڑھا دیا؟ فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے، تو انہیں بھی کافی ہو جائے، کیا آپ نے اس سے بہتر تو یہ بھی پائی ہے کہ اس نے اللہ کی خاطر اپنی جان ہی قربان کر دی ہے؟