المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب حد الزاني البكر والثيب باب: کنوارے اور شادی شدہ زانی کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : إِنَّا لا نَجْدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ ، أَلا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ ، أَوْ كَانَ الْحَمْلُ أَوِ الاعْتِرَافُ ، أَلا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مَعَهُ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یوں نہ کہنے لگے: ہم کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں پاتے، چنانچہ وہ اللہ کے نازل کردہ فریضہ کا انکار کر کے گمراہ ہو جائے سن لیں! جو بھی شادی شدہ زنا کرے اور اس پر دلیل مل جائے، یا حمل ہو جائے، یا وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کرنا حق ہے، سن لیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ رجم کیا ہے۔