حدیث نمبر: 800
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أتيا خيبر لحاجة ، فتفرقا في نخلها ، فقتل عبد الله بن سهل ، فأتى أخوه النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَبِّرِ الْكُبْرَ ، يَقُولُ : يَبْدَأُ بِالْكَلامِ الأَكْبَرُ ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَصْغَرَ مِنْ صَاحِبَيْهِ ، فَتَكَلَّمَا فِي قَتْلِ صَاحِبِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ وَصَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ، فَقَالُوا : لَمْ نَشْهَدْ فَكَيْفَ نَحْلِفُ ؟ فَقَالَ : تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ ، فَقَالُوا : قَوْمٌ كُفَّارٌ ، قَالَ : فَوَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سَهْلٌ : فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنَ الإِبِلِ رَكَضَتْنِي رَكْضَةً مِنْ مِرْبَدٍ لَهُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا سہل بن ابی حثمہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبد الله بن سہل اور محیصہ بن مسعود کسی ضرورت کی وجہ سے خیبر کی طرف روانہ ہوئے اور اس کے نخلستان میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، عبد الله بن سہل کو قتل کر دیا گیا، تو ان کا بھائی عبد الرحمن بن سہل اور چچا کے دو بیٹے حویصہ اور محیصہ بن مسعود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے، عبد الرحمن بن سہل بات شروع کرنے لگے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم فرما رہے تھے: بڑا بات شروع کرے، عبد الرحمن سب سے چھوٹے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ساتھی کے قتل کے متعلق بات کی۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: آپ میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں اور اپنے ساتھی یا مقتول کے (خون کے) وارث بن جائیں۔ انہوں نے کہا: جب ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے تو ہم کیسے قسمیں کھائیں؟ فرمایا: پھر یہودیوں میں سے پچاس آدمی قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: وہ تو کافر لوگ ہیں، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دیت ادا کر دی۔ سہل کہتے ہیں: ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا تو اس نے مجھے باڑے میں ٹانگ دے ماری۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 800
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاري: 6142-6143، صحیح مسلم: 1669»