المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الوضوء من القيء باب: قے آنے پر وضو کے متعلق جو کچھ مروی ہے
حدیث نمبر: 8
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَعِيشَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ الْوُضُوءَ ".ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا، کہتے ہیں: دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے اُن سے یہ بات ذکر کی، تو کہنے لگے: انہوں نے سچ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروانے کے لیے پانی میں نے ہی بہایا تھا۔