حدیث نمبر: 799
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ : ثني أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُو وَرِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جُهْدٍ أَصَابَهُمْ ، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ ، فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ ، فَأَتَى يَهُودَ ، فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ لِيَتَكَلْم وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لَيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ : " كَبِّرْ كَبِّرْ ، يُرِيدُ السِّنَّ ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِمَّا أَنْ يُرِيدُوا صَاحِبَكُمْ ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ ، فَكَتَبُوا : إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ قَالُوا : لا ، قَالَ : فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ؟ قَالُوا : لَيْسُوا مُسْلِمَيْنِ ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمْ فِي الدَّارِ " ، قَالَ سَهْلٌ : فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابو لیلی بن عبد الله بن عبد الرحمن اپنی قوم کے بڑوں سے بیان کرتے ہیں کہ عبد الله بن سہل اور محیصہ کسی مصیبت کی وجہ سے خیبر کی طرف روانہ ہوئے، پھر محیصہ کے پاس کوئی آیا تو اس نے بتایا کہ عبد الله بن سہل کو قتل کر کے کسی گڑھے یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ وہ (محیصہ) یہودیوں کے پاس آئے اور کہنے لگے: الله کی قسم! تم نے اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: الله کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ واپس اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں یہ واقعہ بیان کیا، پھر وہ اور ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبد الرحمن بن سہل (رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں) آئے، محیصہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے لگے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے محیصہ سے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دیں۔ حویصہ نے بات کی، بعد میں محیصہ نے بات کی۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں گے یا پھر لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اس بارے میں لکھ بھیجا تو انہوں نے جواباً لکھا: الله کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبد الرحمن سے فرمایا: آپ قسم کھا کے اپنے ساتھی کے خون کے مستحق بن سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: پھر یہود تمہیں قسمیں دے دیں۔ انہوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت ادا کی، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سو اونٹ ان کی طرف بھیج دیے حتیٰ کہ گھر میں داخل کر دیے۔ سہل بیان کرتے ہیں: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے ٹانگ ماری تھی۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 799
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاري: 7192، صحیح مسلم: 1669»