حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ : عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ " .سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں، ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور پیٹ کے بچے سمیت اسے قتل کر دیا، وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر آئے، تو آپ نے یوں فیصلہ کیا کہ اس کے پیٹ کے بچے کی دیت غرّہ یعنی غلام یا لونڈی ہے اور آپ نے (مقتولہ) عورت کی دیت قاتلہ کے عاقلہ پر ڈال دی اور مقتولہ کے بیٹے کو دیگر ورثاء سمیت اس کا وارث ٹھہرایا، حمل بن نابغہ ہذلی کہنے لگا: میں اس بچے کی دیت کیوں ادا کروں؟ جس نے نہ کھایا نہ پیا، نہ بولا نہ چلایا، ایسے بچے کا خون تو رائیگاں ہے۔ اس کی سجع کلامی کو دیکھ کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی ہے۔