حدیث نمبر: 772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ ، وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفُ مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ وُدِيَ بِمِائَةِ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلا مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَقَالُوا : ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ ، فَقَالُوا : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 قَالَ ، فَالْقِسْطُ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، ثُمَّ نزلت أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50 " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں قریظہ اور نضیر (یہودیوں کے دو قبیلے) تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ معزز تھے، جب کبھی نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا، تو سو وسق کھجور اس کا فدیہ دے دیا جاتا اور جب کبھی قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا، تو اسے اس (مقتول) کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا، جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مبعوث ہوئے، تو نضیر کے آدمی نے قریظہ کا آدمی قتل کر دیا، انہوں نے کہا: اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فیصلہ ہیں، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ (المائدة: 42) (آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں، تو انصاف سے فیصلہ کریں) اور انصاف یہ ہے کہ جان کے بدلے جان، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ (المائدة: 50) (کیا یہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟)

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 772
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 4494، سنن النسائي: 4736، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5057) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (366/4، 367) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ سماک بن حرب کی عکرمہ سے بیان کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے، داؤد بن حصین کی عکرمہ سے بیان کردہ روایت اس کا ضعیف شاہد ہے۔»