المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب اللعان باب: لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام کا معاملہ) کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : ثني الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَلاعَنَهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ حَبَسْتَهَا فَقَدْ ظَلَمْتَهَا " قَالَ : فَطَلَّقَهَا ، فَكَانَ بَعْدُ سُنَّةً لِمَنْ كَانَ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ ، فَلا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلا وَقَدْ صَدَقَ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلا وَقَدْ كَذَبَ " قَالَ : فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ ، قَالَ : وَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدُ إِلَى أُمِّهِ .سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا، کہتے ہیں: انہوں (عویمر) نے اپنی بیوی سے لعان کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر (اب) آپ نے اسے اپنے نکاح میں رکھا، تو اس پر ظلم ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اسے طلاق دے دی، اس کے بعد ہر لعان کرنے والے کے لیے یہی دستور رائج ہو گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھیں اگر اس (عورت) نے کالے رنگ والا، شدید کالی آنکھوں والا، بھاری کولہوں والا اور موٹی موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنا، تو میں عویمر کو سچا سمجھوں گا، اگر اس نے سرخ رنگ اور بدصورت (پست قد) بچہ جنا، تو میں عویمر کو جھوٹا سمجھوں گا۔ راوی کہتے ہیں: اس نے ان اوصاف پر مشتمل بچہ جنا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویمر کی تصدیق میں بیان کیے تھے۔ بعد میں اس (بچے) کو ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔