المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب اللعان باب: لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام کا معاملہ) کا بیان
حدیث نمبر: 753
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ ، وَقَالَ : " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ ، أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالِي ؟ قَالَ : لا مَالَ لَكَ عَلَيْهَا ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِنْ كُنْتَ كاذِبًا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهُ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کو جدا جدا کر دیا اور انہیں فرمایا: آپ کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے، آپ میں ایک تو جھوٹا ہے، اب آپ کو بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا مال (مہر تو واپس دلوا دیں) فرمایا: ان کے ذمہ آپ کا کوئی مال نہیں ہے، اگر آپ سچے ہیں، تو وہ مال ان کی شرمگاہ کے بدلے میں گیا، جو آپ نے حلال کی ہے اور اگر آپ جھوٹے ہیں، تو وہ مال (مانگنا) آپ کے شایان شان نہیں ہے۔