المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب اللعان باب: لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام کا معاملہ) کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثنا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : " سُئِلَتْ عَنِ الْمُتَلاعِنَيْنِ ، أتُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ ، فَقُمْتُ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْمُتَلاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، نَعَمْ ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلانُ بْنُ فُلانٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ مِنَّا يَرَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ ، إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مثل ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَمْ يُجِبْهُ ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ ، فَقَالَ : الَّذِي سَأَلْتُ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ فِي سُورَةِ النُّورِ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ حَتَّى بَلَغَ : وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6 - 9 فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ ، فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا ، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ ، قَالَ : فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَتَشَهَّدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنَ الصَّادِقِينَ ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنَ الْكَاذِبِينَ ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے دور میں مجھ سے متلاعنین (خاوند بیوی) کے متعلق پوچھا گیا: کیا ان کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ مجھے علم نہیں تھا کہ میں کیا جواب دوں، چنانچہ میں اپنے گھر سے اٹھا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے پوچھا: ابو عبد الرحمن! کیا متلاعنین (خاوند بیوی) کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! جی ہاں! سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھ لے تو کیا کرے؟ اگر بات کرتا ہے، تو بہت بڑی بات ہے، اگر چپ کرتا ہے، تو پھر بھی ایسے ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اگلے دن وہ آدمی آکر کہنے لگا: جو بات میں نے آپ سے پوچھی تھی، میں اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیت اتاری: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ........ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ (النور: 6