حدیث نمبر: 749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ بِالْغَلَسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " فَقَالَتْ : أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكِ ؟ " قَالَتْ : لا أَنَا وَلا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا ، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ " فَقَالَتْ حَبِيبَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلَّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتٍ : " خُذْ مِنْهَا " فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

حبیبہ بنت سہل انصاریہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے اندھیرے میں باہر تشریف لائے، تو حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر پایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون؟ انہوں نے کہا: میں حبیبہ بنت سہل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا پریشانی ہے؟ (اس نے کہا: میرا ثابت بن قیس کے ساتھ رہنا محال ہے۔) جب ثابت بن قیس آئے، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہیں اور اس نے جو اللہ کو منظور تھا، بیان کر دیا ہے۔ حبیبہ کہنے لگی: اللہ کے رسول! انہوں نے مجھے جو کچھ دیا تھا، وہ میرے پاس موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت سے فرمایا: ان سے لے لیں۔ پس انہوں نے لے لیا اور وہ اپنے گھر جا بیٹھیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 749
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: موطأ الإمام مالك: 564/2، مسند الإمام أحمد: 433/6، 434، سنن أبي داود: 2227، سنن النسائي: 3492، اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (4280) نے صحیح کہا ہے۔»