المنتقى ابن الجارود
كتاب الطلاق— طلاق کے احکام و مسائل
باب في الظهار باب: ظہار (بیوی کو محرمات سے تشبیہ دینا) کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ غَيْرِي ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ رَمَضَانَ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ فَرَقًا مِنْ أَنْ أُصِيبَ مِنْ لَيْلِي مِنْهَا شَيْئًا ، فَأُتَابِعُ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُدْرِكَنِي النَّهَارُ ، وَأَنَا لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِعَ ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذِ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي ، فَقُلْتُ لَهُمُ : انْطَلِقُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرُوهُ بِأَمْرِي ، فَقَالُوا : لا وَاللَّهِ لا نَفْعَلُ نَتَخَوَّفُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ ، أَوْ يَقُولَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا ، وَلَكِنِ اذْهَبْ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي ، فَقَالَ لِي : أَنْتَ بِذَاكَ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا بِذَاكَ قَالَ : " أَنْتَ بِذَاكَ ؟ قُلْتُ : أَنَا بِذَاكَ قَالَ : أَنْتَ بِذَاكَ ؟ قُلْتُ : أَنَا بِذَاكَ ، فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ، قَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً ، قَالَ : فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ عُنُقِي ، فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا ، قَالَ : فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلا فِي الصَّوْمِ ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا وَحْشًا مَا لَنَا عَشَاءٌ ، قَالَ : اذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ ، قَالَ يَحْيَى : وَالصَّوَابُ زُرَيْقٌ ، فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ عَنْكَ مِنْهَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، ثُمَّ اسْتَعِنْ بِسَائِرِهِ عَلَيْكَ وَعَلَى عِيَالِكَ " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي ، فَقُلْتُ : وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ ، وَوَجَدْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ ، قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ فَادْفَعُوهَا إِلَيَّ ، قَالَ : فَدَفَعُوهَا لِي .سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عورتوں سے جماع کرنے کی جس قدر قوت تھی، میرے علاوہ کسی اور کو نہ تھی۔ جب ماہ رمضان آیا، تو میں نے مہینہ بھر کے لیے اس ڈر سے اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کر لیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں رات کو اس سے جماع کروں اور دن ہونے تک کرتا ہی رہوں، الگ نہ ہو سکوں۔ ایک رات وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ ظاہر ہو گیا، تو میں نے اس سے جماع کر لیا۔ صبح ہوئی، تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں پورا واقعہ سنا کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور انہیں میرے معاملے سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہ کام نہیں کریں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن نہ اتر آئے یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق کوئی ایسی بات نہ کر دیں، جو ہمیشہ کے لیے ہمارے لیے عار بن جائے، لہذا تو اکیلا ہی جا اور جو سوجھتا ہے وہ کر۔ چنانچہ میں نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو پورا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین مرتبہ دریافت فرمایا: آپ نے یہ کام کیا ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے یہ کام کیا ہے۔ آپ اللہ کے حکم کے مطابق میرا فیصلہ فرمائیں، میں صبر کرتا ہوں اور اجر کی امید رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کیجیے۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس (گردن) کے علاوہ کسی گردن کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ لیں۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں روزے کی وجہ سے ہی تو اس مصیبت میں مبتلا ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ہم نے رات بھوکے گزاری ہے، ہمارے پاس رات کا کھانا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو زریق کے صدقہ کے ذمہ دار کے پاس جائیے۔ ابن یحییٰ کہتے ہیں: صحیح لفظ أریق ہے۔ اور اسے کہیں کہ وہ صدقہ آپ کو دے دے، تو اس میں سے ایک وسق کھجور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا، پھر باقی کھجوریں اپنے اور اپنے گھر والوں پر خرچ کر لینا۔ میں نے واپس آکر اپنی قوم سے کہا: تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور بری رائے پائی، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وسعت اور برکت پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا صدقہ مجھے دینے کا حکم دیا ہے، چنانچہ مجھے صدقہ دیں۔ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے صدقہ دیا۔