حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ ، قَالَ : ثنا دُحَيْمٌ ، قَالَ : ثنا الْوَلِيدُ ، قَالَ : ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ : أَيَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَنَا مِنْهَا ، فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : الْحَقِي بِأَهْلِكِ تَطْلِيقَةٌ .اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کون سی بیوی ہے جس نے آپ سے پناہ مانگی تھی؟ تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کیا کہ جون کی بیٹی جب (نکاح کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت گاہ میں آئی اور آپ اس کے قریب ہوئے، تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے بڑی عظیم الشان ذات کی پناہ طلب کی ہے، آپ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جائیں۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: اپنے گھر چلی جائیں، کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے۔