حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَوْ لابْنِ عَمٍّ لَهُ ، قَالَ : فَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلاحَةً ، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ عَلَى كِتَابَتِهَا ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى باب الْحُجْرَةِ فَكَرِهْتُهَا ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا جُوَيْرِيَةُ ابْنَةُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ ، وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الأَمْرِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ ، فَوَقَعَتْ فِي السَّهْمِ لِثَابِتٍ أَوْ لابْنِ عَمٍّ لَهُ ، فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ عَلَى كِتَابَتِي ، قَالَ : فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ ، وَخَرَجَ الْخَبَرُ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ، فَقَالَ النَّاسُ : أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا الْمُصْطَلِقِ ، فَلَقَدْ أَعْتَقَ تَزْوِيجُهُ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَلا نَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے قیدی حاصل کیے، تو سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئیں۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اپنی مکاتبت (یعنی آزادی کی قیمت مقرر) کر لی۔ وہ بہت خوبصورت خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا، وہ اس کے دل میں بس جاتیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد لینے آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نے انہیں حجرے کے دروازے پر دیکھا، تو ناپسند کیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان میں وہ خوبی (حسن) دیکھیں گے، جو میں دیکھ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی جویریہ ہوں، جو اپنی قوم کے سردار ہیں۔ مجھ پر جو پریشانی آئی ہے، وہ آپ سے پوشیدہ نہیں۔ میں ثابت بن قیس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی مکاتبت پر مدد لینے آئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ اس سے بہتر کی خواہش رکھتی ہیں؟ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ (بہتر) کیا ہے؟ فرمایا: میں آپ کی کتابت کی رقم ادا کردوں گا اور آپ سے شادی کرلوں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ کام کر دیا۔ لوگوں میں یہ خبر پھیل گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی ہے۔ لوگ کہنے لگے: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال (بن گئے) ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بنو مصطلق کے سب قیدی آزاد کر دیے، جو ان کے قبضے میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی نے بنو مصطلق کے سو گھرانوں کو آزاد کرادیا۔ ہم نہیں جانتے کہ کوئی عورت اپنی قوم کے لیے ان سے زیادہ بابرکت ٹھہری ہو۔