حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَبِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند اس سے صحبت کر لے، تو اس (بیوی) کو مہر ملے گا، کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو جائز سمجھا ہے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کرنے لگیں (یعنی نکاح نہ کرنے دیں)، تو پھر جس کا باپ ولی نہ ہو، اس کی ولایت کا فیصلہ حاکم وقت کرے گا۔