حدیث نمبر: 685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا دَاودُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : ثنا عَامِرٌ ، قَالَ : ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا ، أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا ، أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا ، لا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى ، وَلا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی کی موجودگی میں بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے اور بھتیجی کی موجودگی میں پھوپھی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ خالہ کی موجودگی میں بھانجی کے ساتھ نکاح سے منع کیا ہے اور بھانجی کی موجودگی میں خالہ کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ بڑے رشتے والی کی موجودگی میں چھوٹے رشتے والی سے اور چھوٹے رشتے والی کی موجودگی میں بڑے رشتے والی سے نکاح نہیں کرنا چاہیے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب النكاح / حدیث: 685
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح : مسند الإمام أحمد : 426/2، سنن أبي داود : 2065، سنن النسائي : 3298، سنن الترمذي : 1126 ، امام بخاری رحمہ اللہ (5018) نے اسے معلق ذکر کیا ہے، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح ، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4117 ) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير : 597/7) نے صحیح کہا ہے۔»