حدیث نمبر: 683
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي طَلاقًا بِنْتُ مِنْهُ ، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَإِنَّهُ عَلَيْهِ مثل هُدْبَةِ الثَّوْبِ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ ؟ لا ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی: رفاعہ نے مجھے ایسی طلاق دی ہے کہ میں اس سے علیحدہ ہو گئی ہوں اور میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کر لی ہے، مگر اس کا عضو کپڑے کی جھالر کی طرح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر فرمانے لگے: آپ رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں؟ اس وقت تک نہیں جا سکتیں جب تک کہ وہ آپ کا اور آپ اس کا مزہ نہ چکھ لیں۔