المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب اللقطة والضوال باب: گری پڑی چیزوں اور گمشدہ جانوروں کا بیان
أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَيْفَ تَرَى فِي مَا يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ ؟ قَالَ : " عَرِّفْهُ سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا ، وَإِنَّ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، وَمَا كَانَ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِيتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: ”جو چیز شارع عام یا آباد بستی سے ملے، تو اس کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کیجیے، اگر اس کا متلاشی آجائے، تو اس کے حوالے کر دیں، ورنہ اپنی ضرورت پوری کر لیں، کسی بھی دن اگر کوئی آدمی اس کا مطالبہ کرنے آجائے، تو اسے دے دینا اور جو چیز ویران راستے یا بے آباد بستی سے ملے، تو اس میں اور دفینہ میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا ہوگا۔“