المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب اللقطة والضوال باب: گری پڑی چیزوں اور گمشدہ جانوروں کا بیان
حدیث نمبر: 669
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ : ثني الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَائَهَا ، ثُمَّ كُلْهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ (گری ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہیے، اگر اسے پہچاننے والا کوئی آدمی نہ آئے، تو اس کی تھیلی اور تسمے (یعنی علامات) کو ذہن نشین کر کے اسے کھا لیں، اگر (کسی وقت) اس کا مالک آ گیا، تو اسے دے دینا۔“