المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب اللقطة والضوال باب: گری پڑی چیزوں اور گمشدہ جانوروں کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ ، فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَقُلْتُ : إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ دَفَعْتُ إِلَيْهِ وَإِلا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ ، وَجَدْتُ صُرَّةً فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا ، فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا ، فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا ، فَقَالَ : اعْلَمْ عِدَّتَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " .سیدنا سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک کوڑا ملا اور میں نے اسے اٹھا لیا، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے مجھ پر اعتراض کیا، میں نے کہا: ”اگر مجھے اس کا مالک مل گیا، تو میں اس کے حوالے کر دوں گا، ورنہ میں اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔“ سوید کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”آپ نے ٹھیک کیا، ٹھیک کیا ہے، مجھے ایک تھیلی ملی تھی، میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ایک سال تک اس کا اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسا نہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ میں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ایک سال تک اور اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسانہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ میں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ایک سال تک مزید اعلان کریں۔‘ میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا، مگر کوئی آدمی ایسانہ ملا، جو اسے پہچان سکتا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اس کی تعداد، تھیلی اور بندھن کو ذہن نشین کر لیں، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دینا، ورنہ اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر لینا۔‘“