حدیث نمبر: 667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، ح قَالَ وَثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أنا سُفْيَانُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : " سَأَلَ أَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَكَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعِفَاصِهَا وَوِكَائِهَا وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ ، وَقَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ ، دَعْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا " وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ، قَالَ : " هِيَ لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " ، هَذَا حَدِيثُ الْفِرْيَابِيِّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ (گری ہوئی چیز) کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کریں، اگر کوئی آکر آپ کو اس کے برتن اور بندھن کے متعلق بتا دے (تو اسے اس کا مال واپس کر دیں)، ورنہ اس سے فائدہ اٹھا لیں۔“ اس دیہاتی نے آپ سے اونٹ کے متعلق پوچھا، جو راستہ بھول گیا ہو، تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، فرمایا: ”آپ کا اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اس کے جوتے اور اس کا مشکیزہ موجود ہے، وہ خود ہی پانی پر پہنچ جائے گا اور خود ہی درخت کے پتے کھالے گا، اسے چھوڑ دیں تاکہ اس کا مالک اسے پالے۔“ انہوں نے گمشدہ بکری کے متعلق پوچھا (اگر مل جائے تو کیا کیا جائے؟) فرمایا: ”وہ آپ کی ہوگی یا آپ کے بھائی کی ہوگی یا بھیڑیا اسے اٹھا لے جائے گا۔“ یہ فریابی کی بیان کردہ روایت ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 667
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 2427، صحیح مسلم : 1722»