المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الربا باب: سود کے متعلق جو مروی ہے
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثني عُقْبَةُ ، قَالَ : ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : ثني نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ عَامٍ مِائَةَ وَسْقٍ ، ثَمَانُونَ وَسْقًا تَمْرًا ، وَعِشْرُونَ وَسْقًا شَعِيرًا " ، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَّمَ خَيْبَرَ فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْطَعَ لَهُنَّ الأَرْضَ ، أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْوُسُوقَ ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ يَقْطَعَ لَهَا الأَرْضَ ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں (یہودیوں) سے کھجور اور اناج کی آدھی پیداوار پر معاملہ کیا تھا۔ آپ اس میں سے ہر سال اپنی ازواجِ مطہرات کو اسی (80) وسق کھجور اور بیس (20) وسق جو (کل سو (100) وسق) دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور انہوں نے خیبر کی زمین تقسیم کی، تو انہوں نے ازواجِ مطہرات کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو انہیں زمین کا ٹکڑا دے دیا جائے اور اگر چاہیں تو وسق ہی لیتی رہیں، چنانچہ ان میں سے بعض نے زمین لینا پسند کیا اور بعض نے وسق لینا پسند کیا۔ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما ان میں شامل تھیں، جنہوں نے وسق لینا پسند کیا۔