حدیث نمبر: 655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، فَقَالَ : " لا بَأْسَ إِذَا أَخَذْتَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا تھا، میں قیمت تو دیناروں میں طے کرتا اور وصولی درہموں میں کرتا اور اسی طرح قیمت درہموں میں طے کرتا اور وصولی دیناروں میں کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب کہ آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ذرا ٹھہریں! میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں، میں قیمت تو دیناروں میں طے کرتا ہوں اور وصولی درہموں میں کرتا ہوں، اسی طرح قیمت درہموں میں طے کرتا ہوں اور وصولی دیناروں میں کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ آپ اس دن کی موجودہ قیمت حاصل کریں اور آپس میں جدا ہونے سے پہلے پوری قیمت وصول کر لیں (یعنی کسی قسم کا ابہام نہ چھوڑیں)۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 655
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 33/2، سنن أبي داود : 3354، سنن النسائي : 4586، سنن الترمذي : 1242، سنن ابن ماجه : 2262، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4920) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (44/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»