المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الربا باب: سود کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا صَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍ ، وَلا دِرْهَمَانِ بِدِرْهَمٍ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہمیں کھانے کے لیے گھٹیا کھجور دی جاتی تھی، تو ہم دو صاع دے کر (اچھی کھجور کا) ایک صاع لے لیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی، تو فرمایا: ”ایک صاع کے بدلے دو صاع (دینا) جائز نہیں، نہ ہی ایک درہم کے بدلے دو درہم جائز ہیں۔“