حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، وَأَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالا : ثنا النَّضْرُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ثنا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرِّبَا سَبْعُونَ بَابًا ، أَهْوَنُهَا عِنْدَ اللَّهِ كَالَّذِي يَنْكِحُ أُمَّهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود کے (گناہ کے) ستر حصے ہیں، اللہ کے نزدیک ان میں سب سے ہلکا گناہ اس شخص کے (گناہ کے) برابر ہے، جو اپنی ماں سے نکاح کرے۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 647
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«ضعيف : التاريخ الكبير للبخاري : 95/5 ، الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 275/5، الموضوعات لابن الجوزي : 244/5-245، کیوں کہ : عکرمہ بن عمار ( ثقہ ) کی روایت یحیی بن ابی کثیر سے مضطرب (ضعیف) ہوتی ہے، یہ روایت بھی اسی سے ہے، امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : أَهْلُ الْحَدِيثِ يُضَعِفُونَ حَدِيثَ عِكْرِمَةَ عَنْ يَحْيِي وَلَا يَجْعَلُونَ فِيهِ حُجَّةً . (مشكل الآثار : 3064) امام یحیی بن سعید قطان رحمہ اللہ ( الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : 1710، وسندہ صحیح ) ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ : ( أيضاً: وسندہ صحیح) امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ ( ایضا) و غیر ہم مکرمہ کی یحی بن ابی کثیر سے روایت ” مضطرب “ اور ”ضعیف“ قرار دیتے ہیں۔ المعجم الأوسط للطبرانی (158/3، ج:7151) میں عکرمہ کی متابعت عمر بن راشد یمامی نے کی ہے، اس کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں : ضَعْفَهُ جُمْهُورُ الأئمة . (مجمع الزوائد : 117/4) امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : هُوَ مُرْسَلٌ لَّمْ يُدْرِكْ يَحْيَى وَلَا إِسْحَاقُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ . (المراسيل لابن أبي حاتم ، ص 245 ، الرقم : 916)، اللآلي المصنوعة للسيوطي (127/2) میں طلحہ بن زید رقی ”ضعیف“ نے متابعت کی ہے، نیز اس تک سند بھی ثابت نہیں ، اس روایت کے دیگر تمام شواہد ”ضعیف“ ہیں۔ یحی بن ابی کثیر ” مدلس ہیں ، سماع کی تصریح نہیں کی۔»