المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الشفعة باب: حقِ شفعہ کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى بْنِ كَعْبٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ ، يُحَدِّثُ عَنِ الشَّرِيدِ ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " ، زَادَ أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمْرٍو : مَا سَقَبُهُ ؟ قَالَ : الشُّفْعَةُ ، قُلْتُ : زَعَمَ النَّاسُ أَنَّهُ الْجِوَارُ ؟ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ ذَلِكَ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی قربت کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے۔“ ابو نعیم کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے عمرو سے پوچھا: ”سقب سے کیا مراد ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے شفعہ مراد ہے۔“ میں نے کہا: ”لوگ تو کہتے ہیں کہ اس سے پڑوس مراد ہے۔“ انہوں نے کہا: ”لوگ تو یہی کہتے ہیں۔“