المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
أبواب القضاء في البيوع باب: خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِي جَمَلَكَ ، قَالَ : قُلْتُ : لا ، بَلْ هُوَ لَكَ ، قَالَ : بِعْنِيهِ ، قُلْتُ : فَإِنَّ لِفُلانٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ قَالَ : تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ أَمَرَ بِلالا أَنْ يُعْطِيَنِي " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنا اونٹ بیچ دیں۔“ عرض کیا: ”بیچنا تو نہیں، البتہ آپ اسے یوں ہی لے لیں۔“ فرمایا: ”بیچ دیں!“ میں نے کہا: ”میں نے فلاں آدمی کا ایک اوقیہ سونا دینا ہے، چنانچہ اس کے عوض یہ اونٹ آپ کا ہو گیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ لے کر فرمایا: ”اپنے گھر تک اس پر سواری کر لیجیے۔“ جب میں گھر آگیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے اوقیہ دے دیں۔ انہوں نے بقیہ حدیث بھی بیان کی۔