حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : وَثَنَى ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : ثنى أَبُو الْمُعْتَمِرِ بْنِ عَمْروٍ ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ وَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي صَاحِب لَنَا أَفْلَسَ ، فَقَالَ : هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٌ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابو خلدہ زرقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے ایک ساتھی کا مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، جو مفلس ہو چکا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”ایسے ہی ایک مقدمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا: جو فوت ہو جائے یا مفلس ہو جائے، تو سامان والا آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے، بشرطیکہ وہ سامان بعینہ اسی کا ہو۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 634
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ حسن : سنن ابی داود : 3523، سنن ابن ماجہ : 2360 ، مسند الطیالسی : 2375 ، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (50/2) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ ابومعتمر ”حسن الحدیث“ ہیں ، بہت سارے ائمہ نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے اس کی ضمنی توثیق کر دی ہے۔»