حدیث نمبر: 626
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، قَالَ : ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها ، أَنَّ رَجُلا اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَغَلَّهُ ثُمَّ ظَهَرَ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ ، فَخَاصَمَ فِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى لَهُ بِرَدِّهِ ، فَقَالَ الْبَائِعُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ أَخَذَ خَرَاجَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے غلام خریدا اور اس سے خراج (نفع) حاصل کیا، پھر اس (غلام) میں کوئی عیب پتہ چل گیا۔ وہ آدمی جھگڑتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے وہ غلام واپس کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ بیچنے والا شخص کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے (غلام سے) خراج وصول کیا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراج (نفع) لینے کا حقدار وہ ہے، جو نقصان کا ذمہ دار بنے۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 626
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف والحدیث حسن ان شاء اللہ
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف والحدیث حسن ان شاء اللہ : سنن ابی داود : 3510، سنن ابن ماجہ : 2243 ، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب ، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (5494) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4927) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (15/2) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔ مسلم بن خالد ابو خالد زنجی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے، اس کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وَالْجُمْهُورُ ضَعَّفَہُ . (مجمع الزوائد : 45/5) تاریخ بغداد للخطیب (297/8، 298، وسندہ حسن) میں مسلم بن خالد کی متابعت خالد بن مہران نے کر رکھی ہے۔»