المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
أبواب القضاء في البيوع باب: خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : ثنا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : اشْتَرَى الأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَخَذَتْهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَاخْتَرْ رَجُلا يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، قَالَ الأَشْعَثُ : أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَا " .محمد بن اشعث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام بیس ہزار کا خریدا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس قیمت کے لیے آدمی بھیجا، تو وہ کہنے لگے: ”میں نے تو دس ہزار کا خریدا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کوئی آدمی منتخب کر لیں، جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کر دے۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے: جب دو سودا کرنے والے آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں اور ان کے پاس دلیل نہ ہو، تو سامان کے مالک کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع چھوڑ دیں گے۔“