حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : ثنا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : اشْتَرَى الأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَخَذَتْهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَاخْتَرْ رَجُلا يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، قَالَ الأَشْعَثُ : أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

محمد بن اشعث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام بیس ہزار کا خریدا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس قیمت کے لیے آدمی بھیجا، تو وہ کہنے لگے: ”میں نے تو دس ہزار کا خریدا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کوئی آدمی منتخب کر لیں، جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کر دے۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے: جب دو سودا کرنے والے آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں اور ان کے پاس دلیل نہ ہو، تو سامان کے مالک کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع چھوڑ دیں گے۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 625
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف : سنن ابی داود : 3511، سنن النسائی : 4652 ، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (42/2) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہٰذا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَّوْصُولٌ . (السنن الکبری : 332/5) حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ کہتے ہیں : وَالَّذِي يَظْهَرُ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ بِمَجْمُوعِ طُرُقِهِ لَهُ أَصْلٌ بَلْ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ يُحْتَجُ بِهِ لَكِنْ فِي لَفْظِهِ اخْتِلَاف . (نصب الرایۃ للزیلعی : 107/4) حفص بن غیاث مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»