حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : ثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الإِمَارَةِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، فَجَاءَهُ بِعَشَرَةِ آلافٍ , فَقَالَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، قَالَ : إِنَّمَا أَخَذْتُهَا بِعَشَرَةِ آلافٍ ، قَالَ : فَإِنِّي أَرْضَى فِي ذَلِكَ بِرَأْيِكَ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلْتُ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بَيْعًا لَيْسَ بَيْنَهُمَا شُهُودٌ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ، قَالَ الأَشْعَثُ : فَإِنِّي قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کو ایک سرکاری غلام بیس ہزار کا بیچ دیا۔ وہ دس ہزار لے کر آئے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے آپ کو یہ غلام بیس ہزار کا فروخت کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں نے تو دس ہزار کا لیا ہے۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس مسئلہ میں آپ کی رائے پر راضی ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر آپ چاہیں، تو میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے (سنائیں)۔“ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی سودا کریں اور ان کے مابین گواہ نہ ہو، تو (اختلاف کی صورت میں) بیچنے والے کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع توڑ دیں گے۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو سودا واپس کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 624
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ ضعیف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ ضعیف : سنن الدارقطنی : 20/3 ، عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود کا اپنے والد سے اس روایت کی سماعت کا مسئلہ ہے، اس کی اور بھی ضعیف سندیں ہیں۔»