حدیث نمبر: 620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، إِلا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةُ خِيَارٍ ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں اختیار باقی رہتا ہے، الا یہ کہ بیع خیار ہو (یعنی بیع توڑنے کا اختیار دیا گیا ہو) اور سودا واپس کرنے کے اندیشے کے پیش نظر جلدی سے الگ ہو جانا جائز نہیں۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 620
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: اسنادہ حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«اسنادہ حسن : مسند الامام احمد : 183/2 ، سنن ابی داود : 3456، سنن النسائی : 4488، سنن الترمذی : 1247 ، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، سنن دار قطنی (50/3) میں ابن عجلان کی متابعت بکیر بن عبداللہ اصج نے سماع مسلسل کے ساتھ کر رکھی ہے۔»