المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
أبواب القضاء في البيوع باب: خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ثنا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيِّ ، قَالَ : غَزَوْنَا غَزَاةً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلا ، فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ بِعَبْدٍ فَلَبِثَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا حَتَّى أَصْبَحَا ، قَالَ : فَلَمَّا حَضَرَ الرَّحْلُ قَامَ الرَّجُلُ إِلَى فَرَسِهِ لِيُسْرِجَهُ وَنَدِمَ ، قَالَ : فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ بِالْبَيْعَةِ ، فَأَتَيَا أَبَا بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَصَّا عَلَيْهِ قِصَّتَهُمَا ، فَقَالَ : أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .سیدنا ابوالوضیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں شریک تھے، تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ (اس دوران) ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے عوض گھوڑا فروخت کر دیا، پھر صبح تک دن اور رات کا باقی حصہ انہوں نے وہیں گزارا۔ جب کوچ کرنے کا وقت آیا، تو وہ آدمی اپنے گھوڑے پر زین کسنے کے لیے اٹھا، تو نادم ہوا (کہ گھوڑا کیوں فروخت کیا)۔ دوسرے آدمی نے چونکہ گھوڑا خرید لیا تھا، لہذا اس نے گھوڑا پکڑ لیا۔ چنانچہ وہ دونوں سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں یہ قصہ سنایا۔ انہوں نے فرمایا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں، تو منظور ہو گا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں (بیع توڑنے کا) اختیار باقی رہتا ہے۔“