حدیث نمبر: 618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَكَانَا جَمِيعًا ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی خرید و فروخت کریں، تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، انہیں (بیع توڑنے کا) اختیار باقی رہتا ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں یا وہ ایک دوسرے کو (بیع توڑنے کا) اختیار دے دیں۔ اگر وہ ایک دوسرے کو اختیار دے دیں اور اس شرط پر بیع کریں، تو بیع منعقد ہو جائے گی۔ (اسی طرح) اگر بیع کرنے کے بعد دونوں الگ ہو جائیں اور کوئی بھی بیع سے انکار نہ کرے، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 618
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2112، صحیح مسلم: 1531»